User Image Raja Alam Zeb Posted 1 photos - 5 days ago
مورخہ18جنوری 2021
گومل یونیورسٹی میں ڈگریوں سے جُڑی ہوئی ماضی کی بے بنیاد خبروں کا آخر کار ڈراپ سین
ڈیرہ اسماعیل خان(ہینڈ آئوٹ18جنوری2021)وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد نے کہا کہ آج کا دن گومل یونیورسٹی کی تاریخ میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ دور میں جو جعلی ڈگریوں کے نام سے اس مادرعلمی کو بدنام کرنے کی مذموم کوشش کی گئی وہ انتہائی قابل افسوس ہے ۔ اِس حوالے سے ماضی میں جو کمیٹی تشکیل دی گئی تھی اُس نے ایگزام سیکشن میں 2013 سے 2016 تک موجود 4 سالہ ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لئے بغیر انتہائی جلد بازی میں رزلٹ میں موجود خامیوں کو جعلی ڈگریوں سے منسوب کیا جو بعد کی تحقیقات میں سراسر غلط ثابت ہوا اور اس 4 سالہ ریکارڈ میں ایک بھی ڈگری جعلی نہیں پائی گئی ۔ اُن کی اِس غیر ذمہ دارانہ رپورٹ سے گومل یونیورسٹی کو تعلیمی میدان میں ناقابل تلافی نقصان پہنچا ۔انہوں نے مزید کہا کہ شاید امتحانی معاملات کا تجربہ نہ ہونے کے سبب وہ کمیٹی یہ بنیادی نقطہ نہ سمجھ سکی کہ ایگزام سیکشن کے ریکارڈ میں کیا گیا جمع تفریق کا فرق ٹیمپرنگ تو کہلایا جا سکتا ہے جعلی ڈگری نہیں ۔ وائس چانسلر ڈاکٹر افتخار احمد نے مزید کہا کہ بطور وائس چانسلر گومل یونیورسٹی کا چارج سنبھالا تو مجھے بتایا گیا کہ گومل یونیورسٹی کے چند دیرینہ اور توجہ طلب مسائل میں سب سے اہم اِس متنازعہ خبر کا جائزہ لینا ہے جو جعلی ڈگریوں کے نام سے میڈیا میں اور عوامی حلقوں میں گردش کر رہی تھی ۔ جس پر آتے ہی سب سے پہلے ڈاکٹر محمد صفدر بلوچ کو کنٹرولر امتحانات اور ڈاکٹر اصغر علی خان کو ایڈیشنل کنٹرولر امتحانات تعینات کیا تاکہ وہ ایگزام سیکشن میں موجود ہر قِسم کی انتظامی اور تکنیکی خامیوں کا جائزہ لیں اور گومل یونیورسٹی کے منظور شدہ قوانین کی روشنی میں اِن مسائل کا حل تجویز کریں ۔ وائس چانسلر نے مزید کہا کہ ان ڈگریوں کے مسئلہ کو تمام قانونی تقاضوں کے تناظر میںنہایت باریک بینی سے دیکھنے کیلئے امتحانی معاملات کا کم و بیش 30سالہ تجربہ رکھنے والے کنٹرولر امتحانات ملاکنڈ یونیورسٹی شاہد خان کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جس میں گومل یونیورسٹی سنڈیکیٹ کے دو معزز اراکین پرنسپل گرلز ڈگری کالج نمبر1شفقت یاسمین اور پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج درابن شکیل ملک سمیت کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر محمد صفدر بلوچ او
 
 
User Image Raja Alam Zeb Posted 0 photos - 5 days ago
مورخہ18جنوری 2021
گومل یونیورسٹی میں ڈگریوں سے جُڑی ہوئی ماضی کی بے بنیاد خبروں کا آخر کار ڈراپ سین
ڈیرہ اسماعیل خان(ہینڈ آئوٹ18جنوری2021)وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد نے کہا کہ آج کا دن گومل یونیورسٹی کی تاریخ میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ دور میں جو جعلی ڈگریوں کے نام سے اس مادرعلمی کو بدنام کرنے کی مذموم کوشش کی گئی وہ انتہائی قابل افسوس ہے ۔ اِس حوالے سے ماضی میں جو کمیٹی تشکیل دی گئی تھی اُس نے ایگزام سیکشن میں 2013 سے 2016 تک موجود 4 سالہ ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لئے بغیر انتہائی جلد بازی میں رزلٹ میں موجود خامیوں کو جعلی ڈگریوں سے منسوب کیا جو بعد کی تحقیقات میں سراسر غلط ثابت ہوا اور اس 4 سالہ ریکارڈ میں ایک بھی ڈگری جعلی نہیں پائی گئی ۔ اُن کی اِس غیر ذمہ دارانہ رپورٹ سے گومل یونیورسٹی کو تعلیمی میدان میں ناقابل تلافی نقصان پہنچا ۔انہوں نے مزید کہا کہ شاید امتحانی معاملات کا تجربہ نہ ہونے کے سبب وہ کمیٹی یہ بنیادی نقطہ نہ سمجھ سکی کہ ایگزام سیکشن کے ریکارڈ میں کیا گیا جمع تفریق کا فرق ٹیمپرنگ تو کہلایا جا سکتا ہے جعلی ڈگری نہیں ۔ وائس چانسلر ڈاکٹر افتخار احمد نے مزید کہا کہ بطور وائس چانسلر گومل یونیورسٹی کا چارج سنبھالا تو مجھے بتایا گیا کہ گومل یونیورسٹی کے چند دیرینہ اور توجہ طلب مسائل میں سب سے اہم اِس متنازعہ خبر کا جائزہ لینا ہے جو جعلی ڈگریوں کے نام سے میڈیا میں اور عوامی حلقوں میں گردش کر رہی تھی ۔ جس پر آتے ہی سب سے پہلے ڈاکٹر محمد صفدر بلوچ کو کنٹرولر امتحانات اور ڈاکٹر اصغر علی خان کو ایڈیشنل کنٹرولر امتحانات تعینات کیا تاکہ وہ ایگزام سیکشن میں موجود ہر قِسم کی انتظامی اور تکنیکی خامیوں کا جائزہ لیں اور گومل یونیورسٹی کے منظور شدہ قوانین کی روشنی میں اِن مسائل کا حل تجویز کریں ۔ وائس چانسلر نے مزید کہا کہ ان ڈگریوں کے مسئلہ کو تمام قانونی تقاضوں کے تناظر میںنہایت باریک بینی سے دیکھنے کیلئے امتحانی معاملات کا کم و بیش 30سالہ تجربہ رکھنے والے کنٹرولر امتحانات ملاکنڈ یونیورسٹی شاہد خان کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جس میں گومل یونیورسٹی سنڈیکیٹ کے دو معزز اراکین پرنسپل گرلز ڈگری کالج نمبر1شفقت یاسمین اور پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج درابن شکیل ملک سمیت کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر محمد صفدر بلوچ او
 
 
User Image Raja Alam Zeb Posted 0 photos - 5 days ago
مورخہ18جنوری 2021
گومل یونیورسٹی میں ڈگریوں سے جُڑی ہوئی ماضی کی بے بنیاد خبروں کا آخر کار ڈراپ سین
ڈیرہ اسماعیل خان(ہینڈ آئوٹ18جنوری2021)وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد نے کہا کہ آج کا دن گومل یونیورسٹی کی تاریخ میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ دور میں جو جعلی ڈگریوں کے نام سے اس مادرعلمی کو بدنام کرنے کی مذموم کوشش کی گئی وہ انتہائی قابل افسوس ہے ۔ اِس حوالے سے ماضی میں جو کمیٹی تشکیل دی گئی تھی اُس نے ایگزام سیکشن میں 2013 سے 2016 تک موجود 4 سالہ ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لئے بغیر انتہائی جلد بازی میں رزلٹ میں موجود خامیوں کو جعلی ڈگریوں سے منسوب کیا جو بعد کی تحقیقات میں سراسر غلط ثابت ہوا اور اس 4 سالہ ریکارڈ میں ایک بھی ڈگری جعلی نہیں پائی گئی ۔ اُن کی اِس غیر ذمہ دارانہ رپورٹ سے گومل یونیورسٹی کو تعلیمی میدان میں ناقابل تلافی نقصان پہنچا ۔انہوں نے مزید کہا کہ شاید امتحانی معاملات کا تجربہ نہ ہونے کے سبب وہ کمیٹی یہ بنیادی نقطہ نہ سمجھ سکی کہ ایگزام سیکشن کے ریکارڈ میں کیا گیا جمع تفریق کا فرق ٹیمپرنگ تو کہلایا جا سکتا ہے جعلی ڈگری نہیں ۔ وائس چانسلر ڈاکٹر افتخار احمد نے مزید کہا کہ بطور وائس چانسلر گومل یونیورسٹی کا چارج سنبھالا تو مجھے بتایا گیا کہ گومل یونیورسٹی کے چند دیرینہ اور توجہ طلب مسائل میں سب سے اہم اِس متنازعہ خبر کا جائزہ لینا ہے جو جعلی ڈگریوں کے نام سے میڈیا میں اور عوامی حلقوں میں گردش کر رہی تھی ۔ جس پر آتے ہی سب سے پہلے ڈاکٹر محمد صفدر بلوچ کو کنٹرولر امتحانات اور ڈاکٹر اصغر علی خان کو ایڈیشنل کنٹرولر امتحانات تعینات کیا تاکہ وہ ایگزام سیکشن میں موجود ہر قِسم کی انتظامی اور تکنیکی خامیوں کا جائزہ لیں اور گومل یونیورسٹی کے منظور شدہ قوانین کی روشنی میں اِن مسائل کا حل تجویز کریں ۔ وائس چانسلر نے مزید کہا کہ ان ڈگریوں کے مسئلہ کو تمام قانونی تقاضوں کے تناظر میںنہایت باریک بینی سے دیکھنے کیلئے امتحانی معاملات کا کم و بیش 30سالہ تجربہ رکھنے والے کنٹرولر امتحانات ملاکنڈ یونیورسٹی شاہد خان کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جس میں گومل یونیورسٹی سنڈیکیٹ کے دو معزز اراکین پرنسپل گرلز ڈگری کالج نمبر1شفقت یاسمین اور پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج درابن شکیل ملک سمیت کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر محمد صفدر بلوچ او
 
 
User Image Raja Alam Zeb Posted 0 photos - 5 days ago
مورخہ18جنوری 2021
گومل یونیورسٹی میں ڈگریوں سے جُڑی ہوئی ماضی کی بے بنیاد خبروں کا آخر کار ڈراپ سین
ڈیرہ اسماعیل خان(ہینڈ آئوٹ18جنوری2021)وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد نے کہا کہ آج کا دن گومل یونیورسٹی کی تاریخ میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ دور میں جو جعلی ڈگریوں کے نام سے اس مادرعلمی کو بدنام کرنے کی مذموم کوشش کی گئی وہ انتہائی قابل افسوس ہے ۔ اِس حوالے سے ماضی میں جو کمیٹی تشکیل دی گئی تھی اُس نے ایگزام سیکشن میں 2013 سے 2016 تک موجود 4 سالہ ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لئے بغیر انتہائی جلد بازی میں رزلٹ میں موجود خامیوں کو جعلی ڈگریوں سے منسوب کیا جو بعد کی تحقیقات میں سراسر غلط ثابت ہوا اور اس 4 سالہ ریکارڈ میں ایک بھی ڈگری جعلی نہیں پائی گئی ۔ اُن کی اِس غیر ذمہ دارانہ رپورٹ سے گومل یونیورسٹی کو تعلیمی میدان میں ناقابل تلافی نقصان پہنچا ۔انہوں نے مزید کہا کہ شاید امتحانی معاملات کا تجربہ نہ ہونے کے سبب وہ کمیٹی یہ بنیادی نقطہ نہ سمجھ سکی کہ ایگزام سیکشن کے ریکارڈ میں کیا گیا جمع تفریق کا فرق ٹیمپرنگ تو کہلایا جا سکتا ہے جعلی ڈگری نہیں ۔ وائس چانسلر ڈاکٹر افتخار احمد نے مزید کہا کہ بطور وائس چانسلر گومل یونیورسٹی کا چارج سنبھالا تو مجھے بتایا گیا کہ گومل یونیورسٹی کے چند دیرینہ اور توجہ طلب مسائل میں سب سے اہم اِس متنازعہ خبر کا جائزہ لینا ہے جو جعلی ڈگریوں کے نام سے میڈیا میں اور عوامی حلقوں میں گردش کر رہی تھی ۔ جس پر آتے ہی سب سے پہلے ڈاکٹر محمد صفدر بلوچ کو کنٹرولر امتحانات اور ڈاکٹر اصغر علی خان کو ایڈیشنل کنٹرولر امتحانات تعینات کیا تاکہ وہ ایگزام سیکشن میں موجود ہر قِسم کی انتظامی اور تکنیکی خامیوں کا جائزہ لیں اور گومل یونیورسٹی کے منظور شدہ قوانین کی روشنی میں اِن مسائل کا حل تجویز کریں ۔ وائس چانسلر نے مزید کہا کہ ان ڈگریوں کے مسئلہ کو تمام قانونی تقاضوں کے تناظر میںنہایت باریک بینی سے دیکھنے کیلئے امتحانی معاملات کا کم و بیش 30سالہ تجربہ رکھنے والے کنٹرولر امتحانات ملاکنڈ یونیورسٹی شاہد خان کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جس میں گومل یونیورسٹی سنڈیکیٹ کے دو معزز اراکین پرنسپل گرلز ڈگری کالج نمبر1شفقت یاسمین اور پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج درابن شکیل ملک سمیت کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر محمد صفدر بلوچ او
 
 
User Image Raja Alam Zeb Posted 0 photos - 5 days ago
مورخہ18جنوری 2021
گومل یونیورسٹی میں ڈگریوں سے جُڑی ہوئی ماضی کی بے بنیاد خبروں کا آخر کار ڈراپ سین
ڈیرہ اسماعیل خان(ہینڈ آئوٹ18جنوری2021)وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد نے کہا کہ آج کا دن گومل یونیورسٹی کی تاریخ میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ دور میں جو جعلی ڈگریوں کے نام سے اس مادرعلمی کو بدنام کرنے کی مذموم کوشش کی گئی وہ انتہائی قابل افسوس ہے ۔ اِس حوالے سے ماضی میں جو کمیٹی تشکیل دی گئی تھی اُس نے ایگزام سیکشن میں 2013 سے 2016 تک موجود 4 سالہ ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لئے بغیر انتہائی جلد بازی میں رزلٹ میں موجود خامیوں کو جعلی ڈگریوں سے منسوب کیا جو بعد کی تحقیقات میں سراسر غلط ثابت ہوا اور اس 4 سالہ ریکارڈ میں ایک بھی ڈگری جعلی نہیں پائی گئی ۔ اُن کی اِس غیر ذمہ دارانہ رپورٹ سے گومل یونیورسٹی کو تعلیمی میدان میں ناقابل تلافی نقصان پہنچا ۔انہوں نے مزید کہا کہ شاید امتحانی معاملات کا تجربہ نہ ہونے کے سبب وہ کمیٹی یہ بنیادی نقطہ نہ سمجھ سکی کہ ایگزام سیکشن کے ریکارڈ میں کیا گیا جمع تفریق کا فرق ٹیمپرنگ تو کہلایا جا سکتا ہے جعلی ڈگری نہیں ۔ وائس چانسلر ڈاکٹر افتخار احمد نے مزید کہا کہ بطور وائس چانسلر گومل یونیورسٹی کا چارج سنبھالا تو مجھے بتایا گیا کہ گومل یونیورسٹی کے چند دیرینہ اور توجہ طلب مسائل میں سب سے اہم اِس متنازعہ خبر کا جائزہ لینا ہے جو جعلی ڈگریوں کے نام سے میڈیا میں اور عوامی حلقوں میں گردش کر رہی تھی ۔ جس پر آتے ہی سب سے پہلے ڈاکٹر محمد صفدر بلوچ کو کنٹرولر امتحانات اور ڈاکٹر اصغر علی خان کو ایڈیشنل کنٹرولر امتحانات تعینات کیا تاکہ وہ ایگزام سیکشن میں موجود ہر قِسم کی انتظامی اور تکنیکی خامیوں کا جائزہ لیں اور گومل یونیورسٹی کے منظور شدہ قوانین کی روشنی میں اِن مسائل کا حل تجویز کریں ۔ وائس چانسلر نے مزید کہا کہ ان ڈگریوں کے مسئلہ کو تمام قانونی تقاضوں کے تناظر میںنہایت باریک بینی سے دیکھنے کیلئے امتحانی معاملات کا کم و بیش 30سالہ تجربہ رکھنے والے کنٹرولر امتحانات ملاکنڈ یونیورسٹی شاہد خان کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جس میں گومل یونیورسٹی سنڈیکیٹ کے دو معزز اراکین پرنسپل گرلز ڈگری کالج نمبر1شفقت یاسمین اور پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج درابن شکیل ملک سمیت کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر محمد
 
 
User Image Raja Alam Zeb Posted 1 photos - 6 days ago
مورخہ17جنوری 2021
گومل یونیورسٹی کو معاشی طور پر مضبوط بنانا میری ترجیحات میں شامل ہے' وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد
ڈیرہ اسماعیل خان(ہینڈ آئوٹ'17جنوری 2021)گومل یونیورسٹی کی 106ویں سنڈیکیٹ میٹنگ میں شعبہ جات کی منظوری دیدی گئی' تفصیلات کے مطابق وائس چانسلرگومل یونیورسٹی کی زیر صدارت گزشتہ روز ہونیوالی 106ویں سنڈیکیٹ میٹنگ میں نئے شروع ہونیوالی فیکلٹی آف الائیڈ سائنسز کے پروگرام کی منظوری دیدی گئی۔ جس میں بی ایس چار سالہ پروگرا مز میں بی ایس میڈیکل ایمجنگ ٹیکنالوجی'بی ایس میڈیکل لیبارٹری ٹیکنالوجی'بی ایس میڈیکل ایمرجنگ کیئر ٹیکنالوجی'بی ایس سرجیکل ٹیکنالوجی 'بی ایس اینتھ تھیسزیا 'بی ایس ڈینٹل ٹیکنالوجی 'بی ایس نرسنگ'بی ایس پیرامیڈیکس شامل ہونگے اور اس کیساتھ ساتھ پانچ سالہ ڈگری پروگرام ڈاکٹر آف فزیکل تھراپی بھی فیکلٹی آف الائیڈ سائنسز میں شامل ہوگا۔ 106ویں سنڈیکیٹ میں پہلی دفعہ انسٹیٹیوٹ آف فوڈ سائنس اینڈ نیوٹریشن میں بی ایس سی آنرز ڈگری پروگرام ان فوڈ سیفٹی اینڈ کوالٹی منیجمنٹ ڈگری پروگرام کی منظوری دیدی گئی ہے جبکہ گومل یونیورسٹی میں فارمیسی کیٹگری بی ڈپلومہ کورسزکے اجراء کی بھی باقاعدہ منظوری دید ی گئی ہے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر ڈاکٹر افتخار احمد نے کہا کہ گومل یونیورسٹی کو معاشی طور پر مضبوط بنانامیری ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گومل یونیورسٹی کی 106ویں میٹنگ تاریخی ہے کیونکہ اس میٹنگ میں بہت سے اہم فیصلے کئے گئے ہیں جس میں ایک نئی فیکلٹی کا اجراء کی باقاعدہ منظوری کے بعد اس میں شروع ہونیوالی ڈگری پروگرام کی بھی منظوری دی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گومل یونیورسٹی میں شروع ہونیوالی نئے شعبہ جات سے ایک طرف تو گومل یونیورسٹی ترقی کرے گی جبکہ دوسری جانب علاقہ کی ترقی کا باعث بھی بنیں گے کیونکہ ڈیرہ اسماعیل خان ، ٹانک، جنوبی وزیرستان، لکی مروت کے طلباء کی بڑی تعداد اس سے مستفید ہوسکیں گے انہوں نے مزید کہا کہ گومل یونیورسٹی میں نئے شعبہ جات کا قیام پر تیزی سے کام جاری ہے اور میری خواہش ہے کہ پاکستان کی اس قدیم جامعہ میں تمام ڈگری پروگرام کا اجراء ہو اور اس خطے کے طلباء کی بڑی تعداد اس سے مستفید ہو سکیں۔ واضح رہے کہ نئے فیکلٹی اوردیگر نئے ڈگری پروگرام کی باقاعدہ منظوری 172ویں ایڈوانس سٹڈی اینڈ ریسرچ بورڈ اور32
 
 
User Image Raja Alam Zeb Posted 2 photos - 7 days ago
مورخہ16جنوری 2021
گومل یونیورسٹی کا خوشحال ترین دن' کلاس فور ملازمین2گریڈ جبکہ کلاس تھری ملازمین کوون گریڈ ترقی دیدی گئی
ڈیرہ اسماعیل خان(ہینڈ آئوٹ'16جنوری 2021)کلاس تھری اور کلاس فور ملازمین کی اپ گریڈیشن کرکے آج بہت خوشی ہو رہی ہے۔ آج کا دن گومل یونیورسٹی کی تاریخ کا بریک تھرو دن کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد نے گومل یونیورسٹی کی 106ویں سنڈیکیٹ میٹنگ کے انعقاد پرکیا۔جس میں تمام ممبران نے شرکت کی ۔رجسٹرار گومل یونیورسٹی طارق محمود نے سنڈیکیٹ ایجنڈا پیش کیا۔ میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر ڈاکٹر افتخار احمد نے کہا کہ آج کا دن گومل یونیورسٹی کی تاریخ کا روشن ترین دن ہے کیونکہ کلاس تھری اور کلاس فور ملازمین سے کئے گئے وعدوں کوعملی جامہ پہنا دیا گیا ہے جس کے بعد کلاس فور ملازمین کو د و گریڈجبکہ کلاس تھری ملازمین کو ون سٹیپ پروموشن دیدی گئی۔ انہوںنے مزید کہا کہ گومل یونیورسٹی میں تمام معاملات چاہے وہ ایڈمنسٹریٹو ہوں یا اکیڈمک بہت بہتر ہو گئے ہیں۔ گومل یونیورسٹی میں ہرقسم کی یونین چاہئے وہ ملازمین کی ہو یا طلباء کی ختم ہو چکی ہیں۔ شفافیت اورمیرٹ پر سختی سے عملدرآمد شروع ہے۔ سوشل میڈیا کے غلط اور منفی استعمال پر تمام ملازمین کو سختی سے ہدایات جاری کی ہوئی ہے ۔ میٹنگ میں دیگر اہم فیصلے بھی کئے گئے ۔ میٹنگ میں رجسٹرار طارق محمود، ڈائریکٹر فنانس اقبال اعوان، ڈین فیکلٹی آف سائنسز و فارمیسی پروفیسر ڈاکٹر حلیم شاہ ،ڈین زرعی فیکلٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم جیلانی، ڈین فیکلٹی آف آرٹس پروفیسر ڈاکٹر نعمت اللہ بابر،اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ انسٹیٹیوٹ آف کیمیکل سائنسز ڈاکٹر محمد عدیل ، نمائندہ سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پشاور اعزاز اللہ اور نمائندہ فنانس ڈیپارٹمنٹ سید باچا،پرنسپل ڈگری کالج درابن محمد شکیل ملک،پرنسپل گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج نمبر1مسز شفقت یاسمین، اسسٹنٹ رجسٹرار ایڈمیشن ،شفیق الرحمن بھی موجود تھے ۔جبکہ نمائندہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد پروفیسر ڈاکٹر زاہد انور آن لائن میٹنگ میں موجود تھے۔
 
 
User Image Raja Alam Zeb Posted 2 photos - 7 days ago
مورخہ16جنوری 2021
گومل یونیورسٹی کا خوشحال ترین دن' کلاس فور ملازمین2گریڈ جبکہ کلاس تھری ملازمین کوون گریڈ ترقی دیدی گئی
ڈیرہ اسماعیل خان(ہینڈ آئوٹ'16جنوری 2021)کلاس تھری اور کلاس فور ملازمین کی اپ گریڈیشن کرکے آج بہت خوشی ہو رہی ہے۔ آج کا دن گومل یونیورسٹی کی تاریخ کا بریک تھرو دن کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد نے گومل یونیورسٹی کی 106ویں سنڈیکیٹ میٹنگ کے انعقاد پرکیا۔جس میں تمام ممبران نے شرکت کی ۔رجسٹرار گومل یونیورسٹی طارق محمود نے سنڈیکیٹ ایجنڈا پیش کیا۔ میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر ڈاکٹر افتخار احمد نے کہا کہ آج کا دن گومل یونیورسٹی کی تاریخ کا روشن ترین دن ہے کیونکہ کلاس تھری اور کلاس فور ملازمین سے کئے گئے وعدوں کوعملی جامہ پہنا دیا گیا ہے جس کے بعد کلاس فور ملازمین کو د و گریڈجبکہ کلاس تھری ملازمین کو ون سٹیپ پروموشن دیدی گئی۔ انہوںنے مزید کہا کہ گومل یونیورسٹی میں تمام معاملات چاہے وہ ایڈمنسٹریٹو ہوں یا اکیڈمک بہت بہتر ہو گئے ہیں۔ گومل یونیورسٹی میں ہرقسم کی یونین چاہئے وہ ملازمین کی ہو یا طلباء کی ختم ہو چکی ہیں۔ شفافیت اورمیرٹ پر سختی سے عملدرآمد شروع ہے۔ سوشل میڈیا کے غلط اور منفی استعمال پر تمام ملازمین کو سختی سے ہدایات جاری کی ہوئی ہے ۔ میٹنگ میں دیگر اہم فیصلے بھی کئے گئے ۔ میٹنگ میں رجسٹرار طارق محمود، ڈائریکٹر فنانس اقبال اعوان، ڈین فیکلٹی آف سائنسز و فارمیسی پروفیسر ڈاکٹر حلیم شاہ ،ڈین زرعی فیکلٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم جیلانی، ڈین فیکلٹی آف آرٹس پروفیسر ڈاکٹر نعمت اللہ بابر،اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ انسٹیٹیوٹ آف کیمیکل سائنسز ڈاکٹر محمد عدیل ، نمائندہ سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پشاور اعزاز اللہ اور نمائندہ فنانس ڈیپارٹمنٹ سید باچا،پرنسپل ڈگری کالج درابن محمد شکیل ملک،پرنسپل گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج نمبر1مسز شفقت یاسمین، اسسٹنٹ رجسٹرار ایڈمیشن ،شفیق الرحمن بھی موجود تھے ۔جبکہ نمائندہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد پروفیسر ڈاکٹر زاہد انور آن لائن میٹنگ میں موجود تھے۔
 
 
User Image Raja Alam Zeb Posted 1 photos - 8 days ago
مورخہ: 15جنوری 2021
(1)گومل یونیورسٹی میں ایم اے پرائیویٹ سرائیکی ڈگری شروع کر دی گئی
ڈیرہ اسماعیل خان(ہینڈ آئوٹ'15جنوری 2021)گومل یونیورسٹی میں ایم اے پرائیویٹ سرائیکی ڈگری شروع کر دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق گومل یونیورسٹی شعبہ متحانات کے کنٹرولر ڈاکٹر صفدر بلوچ نے وائس چانسلر وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسرڈاکٹر افتخار احمد کی خصوصی ہدایت پر گومل یونیورسٹی میں ایم اے پرائیویٹ سرائیکی ڈگری شروع کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس موقع پر وائس چانسلر ڈاکٹر افتخار احمد نے کہا کہ سرائیکی زبان علاقہ کی وسیع اکثریت بولتی ہے لیکن پڑھنے پڑھانے کے حوالے سے اِس پر آج تک کوئی عملی اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔گومل یونیورسٹی میں بھی سرائیکی ڈیپارٹمنٹ کے حوالے سے کچھ اقدامات سابقہ اَدوار میں اُٹھائے گئے لیکن فنڈز کی عدم دستیابی اور اِسی کے ساتھ ساتھ کئی دیگر مسائل کی وجہ سے معاملہ عملی شکل اختیار نہیں کر سکا۔ لیکن ابھی ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ایم اے پرائیویٹ ڈگری پروگرام میں سرائیکی زبان کو بھی شامل کیا جائے ۔اِس تناظر میں ایم اے سرائیکی کی باقاعدہ طور پر شمولیت سے نہ صرف اِس زبان کے بولنے اور سمجھنے والے افراد میں اِس کی اہمیت اُجاگر ہو گی بلکہ صوبائی حکومت کے فیصلوں کی روشنی میں آنے والے اَدوار میں سکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹی کی سطح پر ایم اے سرائیکی کی ڈگری رکھنے والے افراد بھی اپنی تعلیمی صلاحیتوں سے اِس زبان کے فروغ میں مددگار ہوں گے ۔کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر صفدر بلوچ نے اس موقع پر کہا کہ وائس چانسلر ڈاکٹر افتخار احمد کا ایم اے سرائیکی پرائیویٹ کا شروع ہونا سرائیکی ڈیپارٹمنٹ کے اجراء کی کڑی ہے جس کا قیام انشاء اللہ جلد ہو جائے گا۔ انہو ں نے مزید کہا کہ وائس چانسلر ڈاکٹر افتخار احمد گومل یونیورسٹی میں جدید تعلیمی نظام کے فروغ کیلئے دن رات کوشاں ہے جس کی وجہ سے گومل یونیورسٹی میں ایک نئی فیکلٹی اور پانچ نئے شعبہ جات سمیت مختلف ڈپلومہ جات شروع ہو چکے ہیں جو گومل یونیورسٹی کی ترقی کا باعث بن رہے ہیں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
(2)گومل یونیورسٹی میں ایم اے/ایم ایس سی اور ایم فل /پی ایچ ڈی کے داخلوں کی تاریخ میں 02فروری 2021تک توسیع کر دی گئی
ڈیرہ اسماعیل خان(ہینڈ آئوٹ'15جنوری 2021)گومل یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات میں ایم اے /ایم ایس سی اور ایم فل/پی ایچ ڈی کے داخلوں می
 
 
User Image Raja Alam Zeb Posted 2 photos - 11 days ago
مورخہ: 12جنوری 2021
قوم کے معماروں کی بہترین تخلیق ہماری اولین ترجیح ہے'وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد
ڈیرہ اسماعیل خان(ہینڈ آئوٹ'12جنوری 2021)وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد کی زیر صدارت 172ویں ایڈوانسڈ سٹڈیزاینڈ ریسرچ بورڈ کی میٹنگ کا انعقاد کیا گیا' جس میں تمام شعبہ جات کے ڈین سمیت دیگر ممبران نے شرکت کی۔ میٹنگ کا ایجنڈا ڈائریکٹر اکیڈمکس پروفیسر ڈاکٹر محمد نعمت اللہ بابر نے پیش کیا ۔ میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر ڈاکٹر افتخار احمد نے کہا کہ گومل یونیورسٹی میں ریسرچ ڈگری کی کوالٹی کو مزید بہتر بنانا ہے تاکہ گومل یونیورسٹی سے ایم فل اور پی ایچ ڈی کرکے جانیوالے پوری دنیا میں اپنی کامیابی کا لوہا منوا سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ قوم کے معماروں کی بہترین تخلیق ہماری اولین ترجیح ہے جس میں کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ۔ ریسرچ کو الٹی کو مزید بہتر بنانے کیلئے بورڈ آف ایڈوانسڈ سٹڈیز کی میٹنگ میں پہلی دفعہ پی ایچ ڈی سکالرزنے اپنے سائناپسز کا دفاع کیا۔ واضح رہے میٹنگ میں عالمی وباء کورونا وائرس کی وجہ سے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی ہدایت پر ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طلباء کے تعلیمی سال میں ایک سا ل کی توسیع بھی دی گئی۔
 
 
User Image Raja Alam Zeb Posted 0 photos - 11 days ago
مورخہ: 12جنوری 2021
قوم کے معماروں کی بہترین تخلیق ہماری اولین ترجیح ہے'وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد
ڈیرہ اسماعیل خان(ہینڈ آئوٹ'12جنوری 2021)وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد کی زیر صدارت 172ویں ایڈوانسڈ سٹڈیزاینڈ ریسرچ بورڈ کی میٹنگ کا انعقاد کیا گیا' جس میں تمام شعبہ جات کے ڈین سمیت دیگر ممبران نے شرکت کی۔ میٹنگ کا ایجنڈا ڈائریکٹر اکیڈمکس پروفیسر ڈاکٹر محمد نعمت اللہ بابر نے پیش کیا ۔ میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر ڈاکٹر افتخار احمد نے کہا کہ گومل یونیورسٹی میں ریسرچ ڈگری کی کوالٹی کو مزید بہتر بنانا ہے تاکہ گومل یونیورسٹی سے ایم فل اور پی ایچ ڈی کرکے جانیوالے پوری دنیا میں اپنی کامیابی کا لوہا منوا سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ قوم کے معماروں کی بہترین تخلیق ہماری اولین ترجیح ہے جس میں کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ۔ ریسرچ کو الٹی کو مزید بہتر بنانے کیلئے بورڈ آف ایڈوانسڈ سٹڈیز کی میٹنگ میں پہلی دفعہ پی ایچ ڈی سکالرزنے اپنے سائناپسز کا دفاع کیا۔ واضح رہے میٹنگ میں عالمی وباء کورونا وائرس کی وجہ سے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی ہدایت پر ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طلباء کے تعلیمی سال میں ایک سا ل کی توسیع بھی دی گئی۔
 
 
User Image Raja Alam Zeb Posted 0 photos - 11 days ago
مورخہ: 12جنوری 2021
قوم کے معماروں کی بہترین تخلیق ہماری اولین ترجیح ہے'وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد
ڈیرہ اسماعیل خان(ہینڈ آئوٹ'12جنوری 2021)وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد کی زیر صدارت 172ویں ایڈوانسڈ سٹڈیزاینڈ ریسرچ بورڈ کی میٹنگ کا انعقاد کیا گیا' جس میں تمام شعبہ جات کے ڈین سمیت دیگر ممبران نے شرکت کی۔ میٹنگ کا ایجنڈا ڈائریکٹر اکیڈمکس پروفیسر ڈاکٹر محمد نعمت اللہ بابر نے پیش کیا ۔ میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر ڈاکٹر افتخار احمد نے کہا کہ گومل یونیورسٹی میں ریسرچ ڈگری کی کوالٹی کو مزید بہتر بنانا ہے تاکہ گومل یونیورسٹی سے ایم فل اور پی ایچ ڈی کرکے جانیوالے پوری دنیا میں اپنی کامیابی کا لوہا منوا سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ قوم کے معماروں کی بہترین تخلیق ہماری اولین ترجیح ہے جس میں کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ۔ ریسرچ کو الٹی کو مزید بہتر بنانے کیلئے بورڈ آف ایڈوانسڈ سٹڈیز کی میٹنگ میں پہلی دفعہ پی ایچ ڈی سکالرزنے اپنے سائناپسز کا دفاع کیا۔ واضح رہے میٹنگ میں عالمی وباء کورونا وائرس کی وجہ سے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی ہدایت پر ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طلباء کے تعلیمی سال میں ایک سا ل کی توسیع بھی دی گئی۔
 
 
User Image Raja Alam Zeb Posted 0 photos - 11 days ago
مورخہ: 12جنوری 2021
قوم کے معماروں کی بہترین تخلیق ہماری اولین ترجیح ہے'وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد
ڈیرہ اسماعیل خان(ہینڈ آئوٹ'12جنوری 2021)وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد کی زیر صدارت 172ویں ایڈوانسڈ سٹڈیزاینڈ ریسرچ بورڈ کی میٹنگ کا انعقاد کیا گیا' جس میں تمام شعبہ جات کے ڈین سمیت دیگر ممبران نے شرکت کی۔ میٹنگ کا ایجنڈا ڈائریکٹر اکیڈمکس پروفیسر ڈاکٹر محمد نعمت اللہ بابر نے پیش کیا ۔ میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر ڈاکٹر افتخار احمد نے کہا کہ گومل یونیورسٹی میں ریسرچ ڈگری کی کوالٹی کو مزید بہتر بنانا ہے تاکہ گومل یونیورسٹی سے ایم فل اور پی ایچ ڈی کرکے جانیوالے پوری دنیا میں اپنی کامیابی کا لوہا منوا سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ قوم کے معماروں کی بہترین تخلیق ہماری اولین ترجیح ہے جس میں کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ۔ ریسرچ کو الٹی کو مزید بہتر بنانے کیلئے بورڈ آف ایڈوانسڈ سٹڈیز کی میٹنگ میں پہلی دفعہ پی ایچ ڈی سکالرزنے اپنے سائناپسز کا دفاع کیا۔ واضح رہے میٹنگ میں عالمی وباء کورونا وائرس کی وجہ سے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی ہدایت پر ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طلباء کے تعلیمی سال میں ایک سا ل کی توسیع بھی دی گئی۔
 
 
User Image Raja Alam Zeb Posted 1 photos - 16 days ago
گومل یونیورسٹی میں فیکلٹی آف الائیڈ ہیلتھ سائنسز کے اجراء کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا
ڈیرہ اسماعیل خان(ہینڈ آئوٹ'07جنوری 2021)گومل یونیورسٹی میں فیکلٹی آف الائیڈ ہیلتھ سائنسز شروع کرنے کیلئے باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا ۔جس کے بعد گومل یونیورسٹی میں فیکلٹیوںکی تعداد8ہو جائے گی۔ تفصیلات کے مطابق گومل یونیورسٹی میں فیکلٹی آف الائیڈ ہیلتھ سائنسز کے اجراء کی سفارشات171ویں ایڈوانس سٹیڈی اینڈ ریسرچ بورڈ اور33ویں اکیڈمک کونسل میں کی گئیں جس کی باقاعدہ منظوری گومل یونیورسٹی کی105ویں سنڈیکیٹ میں دیدی گئی اور اس کے اجراء کا نوٹیفیکیشن نمبر739a-749a مورخہ 22 دسمبر2020کو ڈپٹی ڈائریکٹر اکیڈمکس نے جاری کر دیا۔ اس موقع پر وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسرڈاکٹر افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان کی پانچ قدیم جامعات میں گومل یونیورسٹی کا شمار ہوتا ہے اور یہاں پر جدید تعلیمی نظام کے ساتھ ساتھ ٹیکنیکل ایجوکیشن، ڈپلومہ کا اجراء کرنا میری اولین ترجیحات میں شامل ہیںکیونکہ جنوبی وزیرستان، لکی، ٹانک ، ڈیرہ اسماعیل خان اور اس سے ملحقہ پنجاب کے علاقوں کی ضرورت بھی ہے جوعلاقے میں تبدیلی اور ترقی کا باعث بنیں گے۔ ڈاکٹر افتخار احمد نے مزید کہا کہ گومل یونیورسٹی میں بی ایس لائبریری سائنسز' سائیکالوجی'جیالوجی ' فارسٹری'سوشیالوجی کے شعبہ جات کو گومل یونیورسٹی کے قوانین کے تحت شروع کر دیا ہے اور آج فیکلٹی آف الائیڈ ہیلتھ سائنسز کے اجراء کے بعد گومل یونیورسٹی نے ایک اور کامیابی حاصل کر لی ہے' جس سے طلباء کی بڑی تعدادمستفید ہو گی ۔
 
 
User Image Raja Alam Zeb Posted 3 photos - 20 days ago

کامیاب انسان بننے کیلئے محاسبہ نفس بہت ضروری ہے ' وائس چانسلر بنوں یونیورسٹی ڈاکٹر خیر الزمان کا گومل یونیورسٹی میں دو روزہ ورکشاپ کی اختتامی تقریب سے خطاب
ڈیرہ اسماعیل خان(ہینڈ آئوٹ'03جنوری 2021)ہر کام کے پیچھے جذبہ ہونا چاہئے پھر کوئی بھی کام مشکل اور ناممکن نہیں رہتا ۔کام کرنے کا ارادہ کریں اور خلوص دل و نیک نیتی سے کام شروع کر دیں ۔پھر دیکھیں کیسے اللہ پاک آپ کیلئے کیسے راستہ کھولتے ہیں اور وہ ناممکن کام ، ممکن ہو جاتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار وائس چانسلر بنوں یونیورسٹی سائنس آف ٹیکنالوجی پروفیسر ڈاکٹر خیر الزمان نے گومل یونیورسٹی میں ڈگری کالجوں میں سمسٹر سسٹم سے متعلق دو روزہ ورکشاپ کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر خیر الزمان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج مجھے خوشی ہو رہی ہے کہ میںاپنی گومل یونیورسٹی میں بطور مہمان خصوصی آیا ہوںجس مادر علمی سے میں نے بطور لیکچرر اپنے کیریئر کا آغاز کیااور تقریبا ًدنیا کے ہرحصہ میں گیا مگر گومل یونیورسٹی کی یادیں ہر وقت میرے ساتھ رہیں جومیرے لئے باعث فخر ہے۔ وائس چانسلر بنوں یونیورسٹی نے مزید کہا کہ جنوبی اضلاع جس میں ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت، ٹانک، بنوں، جنوبی اور شمالی وزیرستان، کرک ،کوہاٹ کے لوگ بہت محنتی ، لگن ،قابل، جفاکش ہیں اورہر جگہ اپنی جگہ خود بنا لیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ یہاں کے لوگوں کی بڑی تعداد پوری دنیا میں امریکہ، کینیڈاسے لے کر ایسٹ تک نیوزی لینڈ ، آسٹریلیا تک اپنی محنت، لگن سے اپنے ملک اور اپنے علاقے کا نام روشن کررہے ہیں ۔ ڈاکٹر خیر الزمان نے مزید کہا کہ کامیاب انسان بننے کیلئے محاسبہ نفس بہت ضروری ہے ۔ جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔ آپ ڈگری کالجز کے پرنسپل قومی لیڈر ہیںکیونکہ آپ قوم کے معمار کی تخلیق کر رہے ہیں۔ یہ ہمارے بچے ہیں اور ہمیں ان کے ساتھ اپنے بچوں جیسا سلوک کرنا ہے۔ ڈاکٹر خیر الزمان نے مزید کہا کہ بحیثیت ادارہ کا سربراہ آپ نے اپنے تمام سٹاف کو ایک فیملی کی طرح رکھنا ہے اور گھر بنانا ہے ۔ گھر ہمیشہ تب بنتا ہے جب سب لوگ اکٹھے ہوتے ہیں ایک دوسرے کا لحاظ کرتے ہیں ایک دوسری کا خیال رکھتے ہیں اورایک دوسرے کے لئے قربانی کا جذبہ ہوتا ہے تب جا کر ایک گھراور اس کی فیملی مکمل ہوتا ہے۔ لہٰذا آپ سب اپنے اپنے اداروں میں بچوں کو بہترین تعلیم ماحول فراہم کریں اور اپنے اداروں
Photo
Photo
مورخہ: 02جنوری 2021
وائس چانسلر ڈاکٹر افتخار کاگومل یونیورسٹی کی گولڈن جوبلی تقریبات کو شایان شان منانے کا اعلان
ڈیرہ اسماعیل خان(ہینڈ آئوٹ'02جنوری 2021)وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد کی زیر صدارت گومل یونیورسٹی کی گولڈن جوبلی کے حوالے سے منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس کا انعقاد ہوا جس میں تمام شعبہ جات کے ڈین، رجسٹرار ،ڈائریکٹرز، سربراہان نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر ڈاکٹر افتخار احمد نے کہا کہ گومل یونیورسٹی میں بہترین اور پر امن تعلیمی ماحول کی فراہمی کیساتھ ساتھ اس کی ترقی ،خوشحالی میری ترجیحات میں شامل ہیں جس میں آپ سب نے میرے ساتھ جنگی بنیاد وں پر کام کیا اور اس میں اللہ رب العزت نے ہمیں سرخرو کیا اور کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ سال گومل یونیورسٹی کے رائزنگ کا ہے اور انشاء اللہ اگلے سال سے گومل شائین ہو گی۔ گومل یونیورسٹی کے ہر شعبہ میں بہتری آئی ہے جس سے بہت سی چیزیں ٹھیک ہوئی ہیں۔وائس چانسلر نے کلاس فور ملازمین کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ادارے کی ترقی میں کلاس فور ملازمین کا کردار قابل ذکر ہے جس پر میں انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں اور اسی لئے میں نے کلاس فور کی اپ گریڈیشن کا فیصلہ کیا ہے اورانشاء اللہ جلد ہی کلاس فور ملازمین کو اپ گریڈ کر دیا جائے گا۔ وائس چانسلر ڈاکٹر افتخار احمد نے مزید کہا کہ گومل یونیورسٹی کی گولڈن جوبلی نزدیک ہے اور پاکستان کی پانچویں قدیم اور صوبہ خیبرپختونخوا کی دوسری بننے والی اس جامعہ کی تقریبات کوعزت اور قار کے ساتھ شایان شان طریقے سے منانااس ادارہ کا ہم پر قرض ہے۔ جس کے لئے ابھی سے تیاریاں شروع کرنا ہونگی۔تقریب کے اختتام پر دیگر معززین ممبران نے گولڈ ن جوبلی کے حوالے سے اپنے اپنے نقطہ نظر پیش کیا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
گومل یونیورسٹی میں سال2020میں بہترین کارکردگی دکھانے پر 4ایوارڈ کا اعلان
ڈیرہ اسماعیل خان(ہینڈ آئوٹ'02جنوری 2021)وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد نے سال2020میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر چار ایوارڈ ز کا اعلان کر دیا۔ جس میں پہلا انعام شعبہ ورکس میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنیوالے محمد حفیظ کودوسرا انعام وینسم کالج کی اراضی کوبچانے پر انچارج لیگل سیل محمد سراج خان' تیسرا انعام ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن پروفیسر ڈاکٹر سلیم
Photo
Photo
یونیورسٹیوں کا مقصد سوشو اکنامک چینج میں انجن کاکردار اداکرنا ہوتاہے'وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد
ڈیرہ اسماعیل خان(ہینڈ آئوٹ'30دسمبر 2020)یونیورسٹیوں کا مقصد سوشو اکنامک چینج(سماجی معاشی تبدیلی) میں انجن کاکردار اداکرنا ہوتاہے ' ہمیں اپنے کسانوں کو جدید زرعی نظام سے روشناس کرانا ہوگا تاکہ ہمارے کسانوں کی پیداوار میں اضافہ ہو سکے۔ ان خیالات کا اظہار وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹرافتخار احمد نے گومل یونیورسٹی کے سٹی کیمپس میں منعقدہ گومل زام کمانڈ ایریا ڈیولپمنٹ پراجیکٹ اور پاٹا کے زیر انتظام یو ایس ایڈ کے تعاون سے جدید زرعی و ڈیری ٹیکنالوجی سے متعلق منعقدہ دو روزہ گومل زام میلہ کی اختتامی تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔ اس موقع پر پراجیکٹ ڈائریکٹر گومل زام ڈیم کمانڈ ایریا ڈیویلپمنٹ پراجیکٹ، انجنیئر محمد زبیر، ڈائریکٹر ایریڈ زون ریسرچ سنٹر ڈاکٹر نومان لطیف سدوزئی،ڈپٹی ڈائریکٹر لائیو سٹاک ڈاکٹر محمد انوار بلوچ،گومل یونیورسٹی کے تمام شعبہ جات کے ڈین، کوارڈینیٹر سٹی کیمپس ،ایگری کلچر ایکسٹشن' لائیوسٹاک،گومل زام ڈیم کمانڈ ایریا پراجیکٹ کے افسران سٹی کیمپس کے تمام شعبہ جات کے سربراہان سمیت ، کسانوں، زمینداروں اور معززین علاقہ کی بڑی تعداد شریک تھی۔ تقریب میں سٹیج سیکرٹری کے فرائض ڈاکٹر آفتاب احمد اعوان نے ادا کئے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر نے کہا کہ آج اس اہم دن کے موقع پر پالیسی بنانیوالے، انڈسٹری والے، تعلیم والے ، کسان سب بیٹھے ہیں ہمیں زراعت کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی اہمیت و افادیت کے بارے میں سوچنا ہو گااور اس کیلئے حکومت وقت کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یونیورسٹیوں کے ہوتے ہوئے کسانوں کو فائدہ نہ ملے تو یونیورسٹیوں کو کوئی فائدہ نہیں ۔وائس چانسلر نے کسانوں کو کہا کہ زراعت ہو 'ویٹرنری ہو یا میڈیسن کے حوالے سے آپ کو کوئی بھی مسئلہ ہو تو گومل یونیورسٹی آپ کے لئے حاضر ہے ۔آپ لوگ بغیر کسی جھجک اور ڈر کے ہمارے پاس آئیں ، ہمارے دروازے آپ کے لئے کھلے ہیں۔ڈاکٹر افتخار احمد نے مزید کہا کہ گومل یونیورسٹی کاایف ایم ریڈیو ، ٹی وی زراعت اور ویٹرنری کے حوالے سے آگاہی پروگرام دے رہے ہیں ۔ جس کا مقصد صرف اور صرف کسانوں اور زمینداروں میں آگاہی اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کے حوالے سے آگاہی دینا ہے۔ تقریب
 
 
User Image Raja Alam Zeb Posted 1 photos - 27 days ago
(1) ایچ ای سی نے ایم ایس اور ایم فل کی ڈگری کو ختم نہیں کیا'وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد
ڈیرہ اسماعیل خان(ہینڈ آئوٹ'27دسمبر 2020)وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد نے کہا ہے کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے ایم ایس اور ایم فل کی ڈگری کو ختم نہیں کیاہے ،وائس چانسلر نے اس حوالے سے مزید بتایاکہ میں نے چیئر مین ایچ ای سی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا جس پر چیئرمین ایچ ای سی نے اس معاملے پر وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ایچ ای سی نے ایم ایس اور ایم فل ختم کی ڈگری ختم نہیں کیااور نہ ہی کوئی ارادہ ہے ۔چیئر مین ایچ ای سی نے ڈاکٹر افتخار احمدکو مزید بتایا کہ اگر ایچ ای سی کسی بھی ڈگری کو تبدیل کرے گی تواسکے بارے میں سب کوواضح کریگی کہ فلاں ڈگری ختم کر دی گئی ہے ۔اس لئے ملک کی تمام یونیورسٹیاں اور طلباء اس حوالے سے چلنے والی جھوٹی خبروں پر بالکل توجہ نہ دیں ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
(2) گومل یونیورسٹی میں ایم اے/ایم ایس سی داخلوں کی تاریخ میں 12 جنوری 2021تک توسیع کر دی گئی
ڈیرہ اسماعیل خان(ہینڈ آئوٹ'27دسمبر 2020)گومل یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات میں ایم اے /ایم ایس سی کے داخلوں میں 12جنوری 2021 تک توسیع کر دی گئی ہے جبکہ ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مختلف شعبہ جات میں داخلوں کی تاریخ 12جنوری 2021ہی رہے گی۔ اس موقع پر ڈائریکٹر ایڈمیشن شفیع الرحمن نے بتایا کہ وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد کی ہدایت پر طلباء کے مفاد میںایم اے /ایم ایس سی کے مختلف شعبہ جات میں داخلوں کی تاریخ میں توسیع کا اعلان کیا گیا ہے تاکہ طلباء کی بڑی تعداد تعلیم کی شمع سے مستفید ہو سکیں اور اپنے مستقبل کو روشن کرسکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ گومل یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات میں ایم اے /ایم ایس سی اورایم فل اور پی ایچ ڈی میں داخلہ فارم جمع کرانے کی تاریخ 12جنوری2021ہے جس کیلئے امیدوار کو آن لائن اپنا ایڈمیشن فارم جمع کرانا ہو گا اور اس کی پرنٹ شدہ کاپی گومل یونیورسٹی کے ایڈمیشن آفس میں جمع کرانا ہو گی۔ طلباء اور ان کے والدین کی سہولت کیلئے گومل یونیورسٹی کے سٹی کیمپس، مین کیمپس اور سب کیمپس ٹانک میں ایڈمیشن بوتھ قائم ہیں تاکہ ٹانک سمیت جنوبی وزیرستان بلکہ ڈیرہ اسماعیل خان اور باہر سے آنیوالے طلباء اور ان کے والدین جو گومل یونیورسٹی کے مین کیمپس تک آس
 
 
User Image Raja Alam Zeb Posted 0 photos - 27 days ago
(1) ایچ ای سی نے ایم ایس اور ایم فل کی ڈگری کو ختم نہیں کیا'وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد
ڈیرہ اسماعیل خان(ہینڈ آئوٹ'27دسمبر 2020)وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد نے کہا ہے کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے ایم ایس اور ایم فل کی ڈگری کو ختم نہیں کیاہے ،وائس چانسلر نے اس حوالے سے مزید بتایاکہ میں نے چیئر مین ایچ ای سی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا جس پر چیئرمین ایچ ای سی نے اس معاملے پر وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ایچ ای سی نے ایم ایس اور ایم فل ختم کی ڈگری ختم نہیں کیااور نہ ہی کوئی ارادہ ہے ۔چیئر مین ایچ ای سی نے ڈاکٹر افتخار احمدکو مزید بتایا کہ اگر ایچ ای سی کسی بھی ڈگری کو تبدیل کرے گی تواسکے بارے میں سب کوواضح کریگی کہ فلاں ڈگری ختم کر دی گئی ہے ۔اس لئے ملک کی تمام یونیورسٹیاں اور طلباء اس حوالے سے چلنے والی جھوٹی خبروں پر بالکل توجہ نہ دیں ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
(2) گومل یونیورسٹی میں ایم اے/ایم ایس سی داخلوں کی تاریخ میں 12 جنوری 2021تک توسیع کر دی گئی
ڈیرہ اسماعیل خان(ہینڈ آئوٹ'27دسمبر 2020)گومل یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات میں ایم اے /ایم ایس سی کے داخلوں میں 12جنوری 2021 تک توسیع کر دی گئی ہے جبکہ ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مختلف شعبہ جات میں داخلوں کی تاریخ 12جنوری 2021ہی رہے گی۔ اس موقع پر ڈائریکٹر ایڈمیشن شفیع الرحمن نے بتایا کہ وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد کی ہدایت پر طلباء کے مفاد میںایم اے /ایم ایس سی کے مختلف شعبہ جات میں داخلوں کی تاریخ میں توسیع کا اعلان کیا گیا ہے تاکہ طلباء کی بڑی تعداد تعلیم کی شمع سے مستفید ہو سکیں اور اپنے مستقبل کو روشن کرسکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ گومل یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات میں ایم اے /ایم ایس سی اورایم فل اور پی ایچ ڈی میں داخلہ فارم جمع کرانے کی تاریخ 12جنوری2021ہے جس کیلئے امیدوار کو آن لائن اپنا ایڈمیشن فارم جمع کرانا ہو گا اور اس کی پرنٹ شدہ کاپی گومل یونیورسٹی کے ایڈمیشن آفس میں جمع کرانا ہو گی۔ طلباء اور ان کے والدین کی سہولت کیلئے گومل یونیورسٹی کے سٹی کیمپس، مین کیمپس اور سب کیمپس ٹانک میں ایڈمیشن بوتھ قائم ہیں تاکہ ٹانک سمیت جنوبی وزیرستان بلکہ ڈیرہ اسماعیل خان اور باہر سے آنیوالے طلباء اور ان کے والدین جو گومل یونیورسٹی کے مین کیمپس تک آس
 
 
User Image Raja Alam Zeb Posted 1 photos - 27 days ago
(1) ایچ ای سی نے ایم ایس اور ایم فل کی ڈگری کو ختم نہیں کیا'وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد
ڈیرہ اسماعیل خان(ہینڈ آئوٹ'27دسمبر 2020)وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد نے کہا ہے کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے ایم ایس اور ایم فل کی ڈگری کو ختم نہیں کیاہے ،وائس چانسلر نے اس حوالے سے مزید بتایاکہ میں نے چیئر مین ایچ ای سی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا جس پر چیئرمین ایچ ای سی نے اس معاملے پر وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ایچ ای سی نے ایم ایس اور ایم فل ختم کی ڈگری ختم نہیں کیااور نہ ہی کوئی ارادہ ہے ۔چیئر مین ایچ ای سی نے ڈاکٹر افتخار احمدکو مزید بتایا کہ اگر ایچ ای سی کسی بھی ڈگری کو تبدیل کرے گی تواسکے بارے میں سب کوواضح کریگی کہ فلاں ڈگری ختم کر دی گئی ہے ۔اس لئے ملک کی تمام یونیورسٹیاں اور طلباء اس حوالے سے چلنے والی جھوٹی خبروں پر بالکل توجہ نہ دیں ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
(2) گومل یونیورسٹی میں ایم اے/ایم ایس سی داخلوں کی تاریخ میں 12 جنوری 2021تک توسیع کر دی گئی
ڈیرہ اسماعیل خان(ہینڈ آئوٹ'27دسمبر 2020)گومل یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات میں ایم اے /ایم ایس سی کے داخلوں میں 12جنوری 2021 تک توسیع کر دی گئی ہے جبکہ ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مختلف شعبہ جات میں داخلوں کی تاریخ 12جنوری 2021ہی رہے گی۔ اس موقع پر ڈائریکٹر ایڈمیشن شفیع الرحمن نے بتایا کہ وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد کی ہدایت پر طلباء کے مفاد میںایم اے /ایم ایس سی کے مختلف شعبہ جات میں داخلوں کی تاریخ میں توسیع کا اعلان کیا گیا ہے تاکہ طلباء کی بڑی تعداد تعلیم کی شمع سے مستفید ہو سکیں اور اپنے مستقبل کو روشن کرسکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ گومل یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات میں ایم اے /ایم ایس سی اورایم فل اور پی ایچ ڈی میں داخلہ فارم جمع کرانے کی تاریخ 12جنوری2021ہے جس کیلئے امیدوار کو آن لائن اپنا ایڈمیشن فارم جمع کرانا ہو گا اور اس کی پرنٹ شدہ کاپی گومل یونیورسٹی کے ایڈمیشن آفس میں جمع کرانا ہو گی۔ طلباء اور ان کے والدین کی سہولت کیلئے گومل یونیورسٹی کے سٹی کیمپس، مین کیمپس اور سب کیمپس ٹانک میں ایڈمیشن بوتھ قائم ہیں تاکہ ٹانک سمیت جنوبی وزیرستان بلکہ ڈیرہ اسماعیل خان اور باہر سے آنیوالے طلباء اور ان کے والدین جو گومل یونیورسٹی کے مین کیمپس تک آس
 
 
User Image Raja Alam Zeb Posted 1 photos - 27 days ago
ڈیرہ اسماعیل خان: وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد ، یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بنوں کے نئے تعینات ہونیوالے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خیر الزمان کو ذمہ داریاں سنبھالنے پر ان کے دفتر میں مبارک باد دے رہے ہیں
 
 
User Image Raja Alam Zeb Posted 2 photos - 31 days ago
مورخہ: 23 دسمبر 2020
اسلام نے باقی عقائدکو تحفظ دیا اور مسلمانوں کو جبر کرنے سے روکا ہے'وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد
ڈیرہ اسماعیل خان(ہینڈ آئوٹ'23دسمبر 2020)گومل یونیورسٹی میں کرسمس کی تقریب زیر صدارت وا ئس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد منعقد ہوئی اس موقع پر تمام شعبہ جات کے ڈین، رجسٹرار، ڈائریکٹر فنانس سمیت پرنس گِل اوریو نیو ر سٹی کے مسیحی ملازمین کی بڑی تعد اد شریک تھی۔ وائس چانسلر گومل یونیورسٹی نے کہا کہ تمام مذاہب کا ہونا اللہ پاک کی اپنی قدرت ہے کسی کو مسلمان پیدا کیا، کسی کو مسیحی، کسی کو ہندو اور کسی کو کیا ۔اس پردے کے پیچھے جو حقیقت ہے اس کا اللہ پاک کو علم ہے اور ہم انسان کچھ بھی نہیں جانتے۔مگراصل بات یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ بحیثیت انسان کس طرح رہ سکتے ہیںیہ اللہ تعالیٰ کا امتحان ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام نے باقی عقائدکو تحفظ دیا ہے اور مسلمانوں کو جبر کرنے سے روکا ہے۔ مگرآج اگر کسی ایک مسلمان کا عقیدہ دوسرے سے مختلف ہو تو وہ دونوں ایک دوسرے کو برداشت نہیں کرتے ۔ مذہب تو دور کی بات ہے۔وائس چانسلر نے مزید کہا کہ اقلیتی برادری کے حقوق کا تحفظ صرف حکومت وقت کی ہی نہیں ہم سب کی بھی ذمہ داری ہے اور اقلیتی برادری کا خیال اپنی طرح بلکہ اپنے سے بھی زیادہ رکھنا ہم پر فرض ہے۔ کیونکہ انسانیت کی خدمت اور ان کی حفاظت کا درس دین اسلام ہمیں دیتا ہے۔ اس موقع پر وائس چانسلر نے کہا کہ جب میں آیا تو گومل یونیورسٹی میں مسیحی برادری کے ملازمین کی تنخواہیں کم تھیں اور جب مجھے اس کا پتہ چلا تو میں نے اس پر فوری ایکشن لیا کیونکہ ان کے ساتھ ناانصافی کو میں بالکل برداشت نہیں کروں گا۔ کچھ کی تنخواہوں کو میںنے بڑھا دیا ہے اور مزید ملازمین کی تنخواہیں بھی جلد بڑھا دی جائیں گی۔ تقریب میں وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد نے مسیحی برادری کے ہمراہ کرسمس کیک کاٹا اور تمام مسیحی برادری کو کرسمس کی مبارک باد بھی دی۔
 
 
User Image Raja Alam Zeb Posted 2 photos - 32 days ago
مورخہ: 22 دسمبر 2020
گومل یونیورسٹی نے بی اے/بی ایس سی 2020کے سالانہ نتائج کا اعلان کر دیا 'وائس چانسلر کی پوزیشن لینے اورکامیاب ہونیوالے طلباء کو مبارکباد
ڈیرہ اسماعیل خان(ہینڈ آئوٹ'22دسمبر 2020)گومل یونیورسٹی کے شعبہ امتحانات نے بی اے/بی ایس سی سالانہ امتحانات 2020 کے نتائج کا اعلان کر دیا۔وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد نے بی اے اور بی ایس سی سالانہ امتحانات 2020میں پہلی دوسری اور تیسری پوزیشن لینے والے طلباء کے ناموں کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ بیچلر ان سائنس (بی ایس سی) کے سالانہ امتحانات 2020میں گورنمنٹ ڈگری کالج نمبر2ڈیرہ اسماعیل خان کے طالبعلم عابد عباس ولدغلام عباس نے کل نمبر550میں سے476نمبر حاصل کرکے پہلی پوزیشن، گورنمنٹ ڈگری کالج نمبر3ڈیرہ اسماعیل خان کے طالبعلم محمد سعید ولد محمد رفیق نے474نمبر حاصل کرکے دوسری پوزیشن اورگورنمنٹ گرلز ڈگری کالج نمبر3ڈیرہ اسماعیل خان کے طالبہ غزالہ عطاء ولد عطاء اللہ خان نے467نمبر حاصل کرکے تیسری پوزیشن حاصل کی ۔اسی طرح بیچلران آرٹس(بی اے)میں سپیرئرکالج ساہیوال کی طالبہ شکیلہ ناز ولد محمد خان نے کل نمبر550میں سے444نمبر حاصل کرکے پہلی پوزیشن، سپیرئر کالج ساہیوال کے ہی طالبعلم فیصل عمران ولد محمد عمران نے 438نمبر حاصل کرکے دوسری پوزیشن جبکہ آزاد کالج چارسدہ کے طالب علم یاسر احمد ولد تاج بہادر نے 429نمبر حاصل کرکے تیسری پوزیشن حاصل کی۔اس طرح بی ایس سی پارٹ ون کا نتائج کا تناسب 74.22%جبکہ پارٹ ٹو کا تناسب 72.59%رہا جبکہ بی اے پارٹ ون کے نتائج کا تناسب 63.80%جبکہ بی اے پارٹ ٹو کے نتائج کا تناسب60.43%رہا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد نے کہا کہ گومل یونیورسٹی میں ایک ماہ کے مختصر عرصہ میں بی اے /بی ایس سی کے نتائج تیار کرنے پر کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر صفدر بلوچ اور ان کی پوری ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے دن رات محنت کرکے شفاف اور بہترین نتیجہ تیار کیا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر صفدر بلوچ کی وجہ سے شعبہ امتحانات میں اہم تبدیلیاں آئی ہیں۔ اکثر امتحان ہال میں مسائل نظر آئے جس پر کنٹرولر نے فوری ایکشن لے کر سختی کی' ہرامتحانی ہال میں انسپکٹربھیجا ۔تاکہ کسی بھی طرح سے کسی قسم کی کوئی نقل اور کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہو سکے۔وائس چا
 
 
User Image Raja Alam Zeb Posted 2 photos - 35 days ago
مورخہ: 19 دسمبر 2020
مجھے یقین نہیں آرہا ہے کہ گومل یونیورسٹی میں محدود وسائل میں اتنے زیادہ ترقیاتی کام ہو رہے ہیں 'وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد
ڈیرہ اسماعیل خان(ہینڈ آئوٹ'19دسمبر 2020)مجھے یقین نہیں آ رہا ہے کہ گومل یونیورسٹی میں محدود وسائل میں اتنا زیادہ کام ہورہے ہیں۔ان خیالات کا اظہار وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد نے مین کیمپس اور سٹی کیمپس میں جاری ترقیاتی کاموں کے دورہ کے موقع پر کیا۔وائس چانسلر ڈاکٹر افتخار احمد نے مزید کہا کہ گومل یونیورسٹی کے مین کیمپس اورسٹی کیمپس میں جس طرح کم وقت میں اور خصوصا محدود وسائل میں تعمیراتی کام، ایم اینڈ آر، روڈ وں کی تعمیر، شجرکاری جاری ہے 'یہ نہ صرف گومل یونیورسٹی بلکہ ڈیرہ کی عوام اور خصوصا طلباء کیلئے نہایت ہی خوش آئند بات ہے ۔ڈاکٹر افتخار احمد نے اس موقع پر گومل یونیورسٹی کے تمام ملازمین ، اساتذہ اور افسران کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ گومل یونیورسٹی کے ملازمین اس کی ترقی اور خوبصورتی کی طرح جس طرح کا م کررہے ہیں وہ قابل دید ہے کیونکہ گومل یونیورسٹی ہمارا گھر ہے اور اسمیں کام کرنیوالے تمام افراد ایک فیملی کی طرح ہیںاور ہر ایک چاہئے وہ کلاس فور 'کلاس تھری ملازمین ہیں یا پھر افسران اور اساتذہ ہیں' ہر ایک کا اپنے اپنے شعبوں میں بہترین کام کررہے ہیں ۔
 
 
User Image Raja Alam Zeb Posted 2 photos - 36 days ago
ْ
مورخہ: 18 دسمبر 2020
ایم اے/ایم ایس سی داخلے کی تاریخ میں 2023تک توسیع کی جائے' صوبہ خیبرپختونخوا کے وائس چانسلر ز کی متفقہ قرار داد منظور
بی اے پرائیویٹ طلباء کیلئے ایسوسی ایٹ ڈگری ان آرٹس(ADA)کو پرائیوٹ طلباء کیلئے اجراء کیا جائے'تمام وائس چانسلر ز متفق
ڈیرہ اسماعیل خان(ہینڈ آئوٹ'18دسمبر 2020)وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد کی زیر صدارت ہونیوالی خیبرپختونخوا کے وائس چانسلرز کی میٹنگ میںدو قرار دادیں منظور ۔جن میںکہا گیا کہ ایم اے/ایم ایس سی میں داخلے کی تاریخ میں 2023تک توسیع کی جائے اوربی اے پرائیویٹ طلباء کیلئے ایسوسی ایٹ ڈگری ان آرٹس(ADA)کو پرائیوٹ طلباء کیلئے اجراء کیا جائے۔اس موقع پر سیکرٹری ایچ ای ڈی (HED)دائود خان اور ایچ ای سی(HEC) کے نمائندے کنسلٹنٹ اکیڈمکس پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقارگیلانی اور ڈائریکٹر جنرل محمد رضا چوہان بھی موجود تھے۔ ڈاکٹر افتخاراحمد نے اس موقع پر کہا کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کا31دسمبر2020سے ایم اے/ایم ایس سی ڈگری پروگرام میں داخلے کو ختم کرناحکومت پاکستان کی تعلیم تک رسائی کی پالیسی اور یو این او (UNO) کے ایس ڈی جیز کے خلاف ہے اور مجھے ڈر ہے کہ اس فیصلے سے کچھ طلباء کا مستقبل متاثر ہو گا۔انہوں نے مزید کہا کہ بی اے اور ایم اے کو بند کرنے سے یونیورسٹیوں کے بجٹ پر بہت براا ثر پڑے گا۔ خاص طور پروہ یونیورسٹیاں جو پہلے سے ہی مالی خسار ے کا شکار ہیںان کیلئے اس سے حالات اور خراب ہو سکتے ہیں۔انہوں نے گومل یونیورسٹی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ گومل یونیورسٹی کی آمدن کا 25%اس سے متاثر ہوگااورکچھ یونیورسٹیوں کا تو اس سے بھی زیادہ ہوگا۔ اس بجٹ کو پورا کرنے کیلئے یونیورسٹیاں مجبوراً اپنی فیسیوں کو بڑھائیں گی۔ جس سے غریب طلباء پر اثر پڑے گااور ساتھ ساتھ جو لوگ خصوصاً طالبات جو کسی بھی وجہ سے یونیورسٹیوں یا کالجز میں نہیں جا سکتیں ان کے لئے تعلیم کے راستے بند ہو جائینگے۔ اس موقع پر سیکرٹری ایچ ای ڈی دائود خان نے اس اہم میٹنگ کوسراہتے ہوئے یہ امید ظاہر کی کہ ایچ ای سی طلباء اور یونیورسٹیوں کی ضروریات کو دیکھتے ہوئے اپنے فیصلہ پر نظر ثانی کرے ۔نمائندہ ایچ ای سی پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقارگیلانی نے کہا کہ وائس چانسلرزنے جس اہم ترین مسئلہ کی طرف ایچ ای سی کی توجہ دلائی ہے میرے خیال میں ٹھیک ہے اورتاریخ میں توسیع ہون