User Image Raja Alam Zeb Posted 1 photos - 5 days ago
مورخہ18جنوری 2021
گومل یونیورسٹی میں ڈگریوں سے جُڑی ہوئی ماضی کی بے بنیاد خبروں کا آخر کار ڈراپ سین
ڈیرہ اسماعیل خان(ہینڈ آئوٹ18جنوری2021)وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد نے کہا کہ آج کا دن گومل یونیورسٹی کی تاریخ میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ دور میں جو جعلی ڈگریوں کے نام سے اس مادرعلمی کو بدنام کرنے کی مذموم کوشش کی گئی وہ انتہائی قابل افسوس ہے ۔ اِس حوالے سے ماضی میں جو کمیٹی تشکیل دی گئی تھی اُس نے ایگزام سیکشن میں 2013 سے 2016 تک موجود 4 سالہ ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لئے بغیر انتہائی جلد بازی میں رزلٹ میں موجود خامیوں کو جعلی ڈگریوں سے منسوب کیا جو بعد کی تحقیقات میں سراسر غلط ثابت ہوا اور اس 4 سالہ ریکارڈ میں ایک بھی ڈگری جعلی نہیں پائی گئی ۔ اُن کی اِس غیر ذمہ دارانہ رپورٹ سے گومل یونیورسٹی کو تعلیمی میدان میں ناقابل تلافی نقصان پہنچا ۔انہوں نے مزید کہا کہ شاید امتحانی معاملات کا تجربہ نہ ہونے کے سبب وہ کمیٹی یہ بنیادی نقطہ نہ سمجھ سکی کہ ایگزام سیکشن کے ریکارڈ میں کیا گیا جمع تفریق کا فرق ٹیمپرنگ تو کہلایا جا سکتا ہے جعلی ڈگری نہیں ۔ وائس چانسلر ڈاکٹر افتخار احمد نے مزید کہا کہ بطور وائس چانسلر گومل یونیورسٹی کا چارج سنبھالا تو مجھے بتایا گیا کہ گومل یونیورسٹی کے چند دیرینہ اور توجہ طلب مسائل میں سب سے اہم اِس متنازعہ خبر کا جائزہ لینا ہے جو جعلی ڈگریوں کے نام سے میڈیا میں اور عوامی حلقوں میں گردش کر رہی تھی ۔ جس پر آتے ہی سب سے پہلے ڈاکٹر محمد صفدر بلوچ کو کنٹرولر امتحانات اور ڈاکٹر اصغر علی خان کو ایڈیشنل کنٹرولر امتحانات تعینات کیا تاکہ وہ ایگزام سیکشن میں موجود ہر قِسم کی انتظامی اور تکنیکی خامیوں کا جائزہ لیں اور گومل یونیورسٹی کے منظور شدہ قوانین کی روشنی میں اِن مسائل کا حل تجویز کریں ۔ وائس چانسلر نے مزید کہا کہ ان ڈگریوں کے مسئلہ کو تمام قانونی تقاضوں کے تناظر میںنہایت باریک بینی سے دیکھنے کیلئے امتحانی معاملات کا کم و بیش 30سالہ تجربہ رکھنے والے کنٹرولر امتحانات ملاکنڈ یونیورسٹی شاہد خان کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جس میں گومل یونیورسٹی سنڈیکیٹ کے دو معزز اراکین پرنسپل گرلز ڈگری کالج نمبر1شفقت یاسمین اور پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج درابن شکیل ملک سمیت کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر محمد صفدر بلوچ او